Dayar E Shab Ka Muqaddar Zaroor Chamkay Ga

دیار شب کا مقدر ضرور چمکے گا

دیار شب کا مقدر ضرور چمکے گا

یہیں کہیں سے چراغوں کا نور چمکے گا

کہاں ہوں میں کوئی موسیٰ کہ اک صدا پہ مری

وہ نور پھر سے سر کوہ طور چمکے گا

ترے جمال کا نشہ شراب جیسا ہے

ہماری آنکھوں سے اس کا سرور چمکے گا

بھرم جو پیاس کا رکھے گا آخری دم تک

اسی کے ہاتھ میں جام طہور چمکے گا

یہ کہہ کے دار پہ خود کو چڑھا دیا میں نے

کہ دار پر بھی سر بے قصور چمکے گا

لٹے ہوئے ہیں مگر ہم ابھی نہیں مایوس

ہمارے تاج میں پھر کوہ نور چمکے گا

تلاش کرتا ہے مجھ مشت خاک میں تو عبث

غرور ہوگا جبھی تو غرور چمکے گا

متاع فن سے نوازا گیا ہے تجھ کو فراغؔ

اسی سے نام ترا دور دور چمکے گا

فراغ روہوی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(461) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Faragh Rohvi, Dayar E Shab Ka Muqaddar Zaroor Chamkay Ga in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 16 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Faragh Rohvi.