Taqaza

تقاضا

پھر رات کی تاریک ادائیں ہیں مسلط

پھر صبح کے ہاتھوں سے حنا چھوٹ رہی ہے

جو ہار تیرے واسطے گوندھا تھا کسی نے

اس ہار کی اک ایک لڑی ٹوٹ رہی ہے

جو ساز کبھی واقف اسرار جنوں تھا

اس ساز کی رگ رگ سے لہو پھوٹ رہا ہے

کیا ہوش تجھے ساقیٔ میخانۂ دنیا

وہ کون سا ساغر ہے جو اب ٹوٹ رہا ہے

تقدیر کو روتے ہیں سیہ بخت ستارے

آفاق پہ ظلمات نے پھینکی ہیں کمندیں

کھلتا ہی نہیں اب در جاناں یہ سنا ہے

دیوانے کہاں جائیں کہاں رات گزاریں

خوں‌ ریز حقائق کی گھنی چھاؤں میں اب تک

دوشیزۂ افکار کی زلفیں ہیں پریشاں

اب تک ہیں وہی مقتل و زنجیر و سلاسل

اب تک کف قاتل میں وہی موت کے ساماں

اب تک نہ بجھے دست تغیر کی ادا سے

تصویر گلستاں کو جھلستے ہوئے شعلے

اب تک نہ ہٹے اپنے سیہ کار ستم سے

تفریق کے فرزند ہوس ناک لٹیرے

اس عالم ظلمات کی پر ہول فضا میں

ہم اپنی محبت کا لہو بیچ رہے ہیں

ہم جن کو بناتے رہے گلشن کا نگہباں

اب تک وہ رگ گل سے لہو کھینچ رہے ہیں

پھر عالم ظلمات میں روتی ہے زلیخا

کیا جانئے کس بھیس میں خورشید سحر ہے

پھر اپنے مقدر پہ وہی رات کے پہرے

پھر جانب مقتل وہی قاتل کی نظر ہے

پھر ہم سے تقاضا ہے تری شوخ نظر کا

تاریکئ حالات کی بنیاد ہلا دیں

جن سے نہ کبھی صبح کی کرنوں کا گزر ہو

ان تیر و تاریک گھروندوں کو گرا دیں

فرید عشرتی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(618) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Fareed Ishrati, Taqaza in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 16 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Fareed Ishrati.