Yaqeen

یقین

چاپ قدموں کی سنو رات کے تارے نہ گنو

کوئی آئے گا بہ ہر حال ضرور آئے گا

اپنی آنکھوں میں چھپائے ہوئے سپنے کل کے

لے کے تابندہ نگاہوں کا غرور آئے گا

یاس و حرماں کے اندھیروں میں ستارے بھر دو

دل کے خوابیدہ دریچوں سے کہو آنکھ ملیں

باد صرصر سے کہو جا کے چلے اور کہیں

خواب فردا کے در و بام پہ کچھ دیپ جلیں

لے کے آکاش پہ آتی ہے کسے کاہکشاں

چاند ہے یا کسی کمسن کے خد و خال کا نور

یا کھلی زلف کو بکھرائے ہوئے رات کے وقت

رقص فرما ہے کسی جنت شاداب کی حور

اوڑھ کر چادر سیماب کوئی زہرہ جمال

جگمگاتے ہوئے تاروں سے اترتی ہے ضرور

گا کے دھرتی کی نگاہوں میں خماریں نغمے

دے کے آواز دبے پاؤں گزرتی ہے ضرور

چاپ قدموں کی سنو رات کے تارے نہ گنو

کوئی آئے گا بہ ہر حال ضرور آئے گا

فرید عشرتی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(658) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Fareed Ishrati, Yaqeen in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 16 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Fareed Ishrati.