Khilaaf Gardish Mamool Hona Chahta Hon

خلاف گردش معمول ہونا چاہتا ہوں

خلاف گردش معمول ہونا چاہتا ہوں

مدد کر شہر نا مقبول ہونا چاہتا ہوں

چلو اپنی طرف سے بند کر لو میری آنکھیں

میں اپنے آپ میں مشغول ہونا چاہتا ہوں

ترے قدموں پہ رکھ دی دیکھ یہ دستار میں نے

کہ اپنے آپ سے معزول ہونا چاہتا ہوں

میں رہنا چاہتا ہوں تیرے دامن سے لپٹ کر

سو تیرے راستے کی دھول ہونا چاہتا ہوں

صدائے لمس لب دے بھی کہ میں غنچہ سخن کا

بہت دن ہو گئے اب پھول ہونا چاہتا ہوں

توجہ ہوں مگر مرکوز دنیا پر ہوں کب سے

اب آپ اپنی طرف مبذول ہونا چاہتا ہوں

بدن کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہوں عشق نامہ

اور اپنی روح کو موصول ہونا چاہتا ہوں

مجھے گھر بھی چلانا ہے اب اپنا فرحتؔ احساس

تو کچھ دن کے لیے معقول ہونا چاہتا ہوں

فرحت احساس

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(720) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Farhat Ehsas, Khilaaf Gardish Mamool Hona Chahta Hon in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 113 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Farhat Ehsas.