Farhat Kanpuri Poetry, Farhat Kanpuri Shayari

فرحت کانپوری - Farhat Kanpuri

کانپور

فرحت کانپوری کی معاشرتی شاعری۔ معاشرتی نظمیں و غزلیں

وہ بہکی نگاہیں کیا کہیے وہ مہکی جوانی کیا کہیے

فرحت کانپوری

وصل کے لمحے کہانی ہو گئے

فرحت کانپوری

منہ بولا بول جگت کا ہے جو من میں رہے سو اپنا ہے

فرحت کانپوری

جو کچھ بھی ہے نظر میں سو وہم نمود ہے

فرحت کانپوری

کچھ تو وفور شوق میں باعث امتیاز ہو

فرحت کانپوری

آنکھوں میں بسے ہو تم آنکھوں میں عیاں ہو کر

فرحت کانپوری

ترا جلوہ شام و سحر دیکھتے ہیں

فرحت کانپوری

اک خلش سی ہے مجھے تقدیر سے

فرحت کانپوری

میرا دل ناشاد جو ناشاد رہے گا

فرحت کانپوری

کوئی بھی ہم سفر نہیں ہوتا

فرحت کانپوری