فرحت قادری - Farhat Qadri

فرحت قادری کی معاشرتی شاعری۔ معاشرتی نظمیں و غزلیں

وہ کھل کر مجھ سے ملتا بھی نہیں ہے

فرحت قادری

کوئی دھڑکن کوئی الجھن کوئی بندھن مانگے

فرحت قادری

شعور و فکر کی تجدید کا گماں تو ہوا

فرحت قادری

راز ابل پڑے آخر آسماں کے سینوں سے

فرحت قادری

راتوں کے اندھیروں میں یہ لوگ عجب نکلے

فرحت قادری

جتنے لوگ نظر آتے ہیں سب کے سب بیگانے ہیں

فرحت قادری

جب ہر نظر ہو خود ہی تجلی نمائے غم

فرحت قادری

تھا پا شکستہ آنکھ مگر دیکھتی تو تھی

فرحت قادری

آئی خزاں چمن میں گئے دن بہار کے

فرحت قادری