مشہور شاعر فارغ بخاری کی شاعری ۔ نظمیں اور غزلیں

نشے میں جو ہے کہنہ شرابوں سے زیادہ

فارغ بخاری

ہوئے ہیں سرد دماغوں کے دہکے دہکے الاؤ

فارغ بخاری

دیکھ کر اس حسین پیکر کو

فارغ بخاری

اس اوج پر نہ اچھالو مجھے ہوا کر کے

فارغ بخاری

تیری خاطر یہ فسوں ہم نے جگا رکھا ہے

فارغ بخاری

حواس لوٹ لیے شورش تمنا نے

فارغ بخاری

دیکھا تجھے تو آنکھوں نے ایواں سجا لیے

فارغ بخاری

کتنے شکوے گلے ہیں پہلے ہی

فارغ بخاری

کچھ اب کے بہاروں کا بھی انداز نیا ہے

فارغ بخاری

کچھ نہیں گرچہ تری راہ گزر سے آگے

فارغ بخاری

کوئی منظر بھی سہانا نہیں رہنے دیتے

فارغ بخاری

یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کے لیے

فارغ بخاری

یادوں کا عجیب سلسلہ ہے

فارغ بخاری

نشے میں جو ہے کہنہ شرابوں سے زیادہ

فارغ بخاری

وہ روشنی ہے کہاں جس کے بعد سایا نہیں

فارغ بخاری

ہوئے ہیں سرد دماغوں کے دہکے دہکے الاؤ

فارغ بخاری

وہ روز و شب بھی نہیں ہے وہ رنگ و بو بھی نہیں

فارغ بخاری

ہر ایک راستے کا ہم سفر رہا ہوں میں

فارغ بخاری

میں کہ اب تیری ہی دیوار کا اک سایا ہوں

فارغ بخاری

دو گھڑی بیٹھے تھے زلف عنبریں کی چھاؤں میں

فارغ بخاری

دل کے گھاؤ جب آنکھوں میں آتے ہیں

فارغ بخاری

جبیں کا چاند بنوں آنکھ کا ستارا بنوں

فارغ بخاری

کیا عدو کیا دوست سب کو بھا گئیں رسوائیاں

فارغ بخاری

میں شعلۂ اظہار ہوں کوتاہ ہوں قد تک

فارغ بخاری

Records 1 To 24 (Total 43 Records)