Yaado Ka Ajeeb Silsila Hai

یادوں کا عجیب سلسلہ ہے

یادوں کا عجیب سلسلہ ہے

سویا ہوا درد جاگ اٹھا ہے

مٹ بھی چکے نقش پا مگر دل

مہکی ہوئی چاپ سن رہا ہے

جلتی ہوئی منزلوں کا راہی

اب اپنا ہی سایہ ڈھونڈھتا ہے

دیواریں کھڑی ہوئی ہیں لیکن

اندر سے مکان گر رہا ہے

پوچھے ہے چٹک کے غنچۂ زخم

اے اجنبی تیرا نام کیا ہے

سوچوں کے اتھاہ پانیوں میں

دل برف کا پھول بن گیا ہے

کس شعلہ بدن کی یاد آئی

دامان خیال جل اٹھا ہے

تخلیق میں خود چھپا ہوا ہے

فن کار بھی ًفطرتا خدا ہے

مرجھا کے ہر ایک زرد پتہ

آویزۂ گوش بن گیا ہے

سوچا ہے یہ میں نے پی کے اکثر

نشے میں یہ روشنی سی کیا ہے

شاخوں پہ پجارنیں سجی ہیں

ہر پھول چمن کا دیوتا ہے

صحرائے وفا میں میرے فن کی

خوشبو کا چراغ جل رہا ہے

پھر پائیں گے خاک سے نمو ہم

فارغؔ یہ اصول ارتقا ہے

اظہار کا جس کو حوصلہ ہے

وہ اپنی صدی کا دیوتا ہے

منصور سے کم نہیں ہے وہ بھی

جو اپنی زباں سے بولتا ہے

وہ پیڑ ہے زندگی کی عظمت

جو تند ہوا سے لڑ رہا ہے

قاتل کو دعائیں دو کہ فارغؔ

ہر زخم وفا غزل سرا ہے

فارغ بخاری

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1200) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Farigh Bukhari, Yaado Ka Ajeeb Silsila Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 43 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Farigh Bukhari.