Aur Main Chup Raha

اور میں چپ رہا

میرے ہاتھوں سے میری چتا بن گئی

میرے کاندھوں پہ میرا جنازہ اٹھا

نوک مژگان سے قرطاس ایام پر

میرے خوں سے مرا نام لکھا گیا

اور میں چپ رہا

میرے بازار کوچے مرے بام و در

میری ناداریوں سے سجائے گئے

میرے افکار میری متاع ہنر

میری محرومیوں سے بسائے گئے

اور میں چپ رہا

میری تقدیر کا جو بھی خاکہ بنا

پیلے موسم کے پتوں پہ لکھا گیا

میری تصویر مجھ سے چھپائی گئی

مجھ کو نادیدہ خوابوں میں دیکھا گیا

اور میں چپ رہا

میرے الفاظ معنی کی تلوار سے

سر بریدہ ہوئے گنگناتے رہے

میرے نغمے گداؤں میں بانٹے گئے

برگزیدہ ہوئے گنگناتے رہے

اور میں چپ رہا

مجھ سے میری تمنا کے گل چھین کر

زرد موسم نے جشن بہاراں کیا

برف میرے نشیمن پہ آ کے گری

دھوپ نکلی تو اس کو ہراساں کیا

اور میں چپ رہا

میرے سر سبز جنگل اجاڑے گئے

میری جھیلوں میں اجگر بسائے گئے

کوہ ماراں کی تقدیس لوٹی گئی

بے حسی کے مقابر سجائے گئے

اور میں چپ رہا

فاروق نازکی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1790) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Farooq Nazki, Aur Main Chup Raha in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 32 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Farooq Nazki.