PhooloN Ko Waesay Bhi Murjhana Hae MurjhaeN Ge

پھولوں کو ویسے بھی مرجھانا ہے مرجھائیں گے

پھولوں کو ویسے بھی مرجھانا ہے مرجھائیں گے

کھڑکیاں کھولیں تو سناٹے چلے آئیں گے

لاکھ ہم اجلی رکھیں شہر کی دیواروں کو

شہر نامہ تو بہرحال لکھے جائیں گے

راکھ رہ جائے گی روداد سنانے کے لیے

یہ تو مہمان پرندے ہیں چلے جائیں گے

اپنی لغزش کو تو الزام نہ دے گا کوئی

لوگ تھک ہار کے مجرم ہمیں ٹھہرائیں گے

آج جن جگہوں کی تفریح سے محفوظ ہوں میں

میرے حالات مجھے کل وہاں پہنچائیں گے

راستے شام کو گھر لے کے نہیں لوٹیں گے

ہم تبرک کی طرح راہوں میں بٹ جائیں گے

دن کسی طرح سے کٹ جائے گا سڑکوں پہ شفقؔ

شام پھر آئے گی ہم شام سے گھبرائیں گے

فاروق شفق

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(685) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Farooq Shafaq, PhooloN Ko Waesay Bhi Murjhana Hae MurjhaeN Ge in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 18 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.9 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Farooq Shafaq.