Raat Kafi Lambi Thi Door Tak Tha Tanha MaiN

رات کافی لمبی تھی دور تک تھا تنہا میں

رات کافی لمبی تھی دور تک تھا تنہا میں

اک ذرا سے روغن پر کتنا جلتا بجھتا میں

سب نشان قدموں کے مٹ گئے تھے ساحل سے

کس کے واسطے آخر ڈوبتا ابھرتا میں

میرا ہی بدن لیکن بوند بوند کو ترسا

دست اور صحرا پر ابر بن کے برسا میں

ادھ جلے سے کاغذ پر جیسے حرف روشن ہوں

اس کی کوششوں پر بھی ذہن سے نہ اترا میں

دونوں شکلوں میں اپنے ہاتھ کچھ نہیں آیا

کتنی بار سمٹا میں کتنی بار پھیلا میں

زندگی کے آنگن میں دھوپ ہی نہیں اتری

اپنے سرد کمرے سے کتنی بار نکلا میں

آج تک کوئی کشتی اس طرف نہیں آئی

پانیوں کے گھیرے میں ایسا ہوں جزیرہ میں

کاٹتا تھا ہر منظر دوسرے مناظر کو

کوئی منظر آنکھوں میں کس طرح سے بھرتا میں

فاروق شفق

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(752) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Farooq Shafaq, Raat Kafi Lambi Thi Door Tak Tha Tanha MaiN in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 18 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Farooq Shafaq.