فاروق شفق - Farooq Shafaq

فاروق شفق کی اداس اور غمگین شاعری

یاد رکھتے کس طرح قصے کہانی لوگ تھے

فاروق شفق

گھر کی چیزوں سے یوں آشنا کون ہے

فاروق شفق

کھڑکیوں پر ملگجے سائے سے لہرانے لگے

فاروق شفق

دنیا کیا ہے برف کی اک الماری ہے

فاروق شفق

پھولوں کو ویسے بھی مرجھانا ہے مرجھائیں گے

فاروق شفق

منظر عجب تھا اشکوں کو روکا نہیں گیا

فاروق شفق

رات کافی لمبی تھی دور تک تھا تنہا میں

فاروق شفق

وہ الگ چپ ہے خود سے شرما کر

فاروق شفق

دن کو تھے ہم اک تصور رات کو اک خواب تھے

فاروق شفق

چھاؤں کی شکل دھوپ کی رنگت بدل گئی

فاروق شفق

پو پھٹی ایک تازہ کہانی ملی

فاروق شفق

بہت دھوکا کیا خود کو مگر کیا کر لیا میں نے

فاروق شفق

اجڑے نگر میں شام کبھی کر لیا کریں

فاروق شفق

ہونے والا تھا اک حادثہ رہ گیا

فاروق شفق

کوئی بھی شخص نہ ہنگامۂ مکاں میں ملا

فاروق شفق

دھیرے دھیرے شام کا آنکھوں میں ہر منظر بجھا

فاروق شفق

آندھیوں کا خواب ادھورا رہ گیا

فاروق شفق