Woh Alag Chup Hae Khud Se Sharma Kar

وہ الگ چپ ہے خود سے شرما کر

وہ الگ چپ ہے خود سے شرما کر

کیا کیا میں نے ہاتھ پھیلا کر

پھل ہر اک ڈال پر نہیں ہوتے

سنگ ہر ڈال پر نہ پھینکا کر

تازہ رکھنے کی کوئی صورت سوچ

سوکھے لب پر زباں نہ پھیرا کر

دشت سورج میں کیا ملا ہم کو

رہ گیا رنگ اپنا سنولا کر

مٹ نہ جائے کہیں وجود ترا

خود کو فرصت میں چھو کے دیکھا کر

آئنا ہو چلا ہے سورج اب

ہے یہی وقت سب کو اندھا کر

ایک ہوں دو کنارے دریا کے

کوئی ایسی سبیل پیدا کر

کیسے دروازے پر قدم رکھوں

کوئی لیٹا ہے پاؤں پھیلا کر

صورتیں ذہن سے نہ مٹ جائیں

بھولے بھٹکے ادھر بھی نکلا کر

سرسری طور پر جو بات ہوئی

اس نے پوچھا اسی کو دہرا کر

ٹھہرے پانی میں پھینک کر پتھر

اپنے سائے کو تو نہ رسوا کر

فاروق شفق

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(500) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Farooq Shafaq, Woh Alag Chup Hae Khud Se Sharma Kar in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 18 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Farooq Shafaq.