Yaad Rakhtay Kis Tarha Qissay Kahani Log Thay

یاد رکھتے کس طرح قصے کہانی لوگ تھے

یاد رکھتے کس طرح قصے کہانی لوگ تھے

وہ یہاں کے تھے نہیں وہ آسمانی لوگ تھے

سوکھے پیڑوں کی قطاریں روکتیں کب تک انہیں

اڑ گئے کرتے بھی کیا برگ خزانی لوگ تھے

زندگی آنکھوں پہ رکھ کر ہاتھ پیچھے چھپ گئی

درمیاں رہ کر بھی سب کے آنجہانی لوگ تھے

کل یہیں پر لہلہاتی تھیں ہنسی کی کھیتیاں

کل یہیں پر کیسے کیسے زعفرانی لوگ تھے

ٹوٹ کر بکھرے ہوئے ہیں قربتوں کے سلسلے

چھپ گئے جانے کہاں جو درمیانی لوگ تھے

خشک مٹی بن گئے تو بوندیاں نہلا گئیں

اور ہمیں کیا چاہئے تھا آگ پانی لوگ تھے

فاروق شفق

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(732) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Farooq Shafaq, Yaad Rakhtay Kis Tarha Qissay Kahani Log Thay in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 18 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.9 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Farooq Shafaq.