فصیح اکمل کی اداس اور غمگین شاعری

یہ وہ سفر ہے جہاں خوں بہا ضروری ہے

فصیح اکمل

مضطرب دل کی کہانی اور ہے

فصیح اکمل

مدت سے وہ خوشبوئے حنا ہی نہیں آئی

فصیح اکمل

کسی کے سامنے اس طرح سرخ رو ہوگی

فصیح اکمل

کچھ نیا کرنے کی خواہش میں پرانے ہو گئے

فصیح اکمل

کتابوں سے نہ دانش کی فراوانی سے آیا ہے

فصیح اکمل

غبار تنگ ذہنی صورت خنجر نکلتا ہے

فصیح اکمل

دے گیا لکھ کر وہ بس اتنا جدا ہوتے ہوئے

فصیح اکمل

جو تو نہیں ہے تو لگتا ہے اب کہ تو کیا ہے

فصیح اکمل

لٹکائی دیوار پہ کس نے حاتم کی تصویر

فصیح اکمل

جڑوں سے سوکھتا تنہا شجر ہے

فصیح اکمل

چشم حیرت کو تعلق کی فضا تک لے گیا

فصیح اکمل