Achhi Khasi Ruswai Ka Sabab Hoti Hae

اچھی خاصی رسوائی کا سبب ہوتی ہے

اچھی خاصی رسوائی کا سبب ہوتی ہے

دوسری عورت پہلی جیسی کب ہوتی ہے

کچھ مفہوم سمجھ کر آنکھیں بول اٹھیں

سرگوشی تو یوں ہی زیر لب ہوتی ہے

کوئی مسیحا شاید اس کو چھو گزرا

دل کے اندر اتنی روشنی کب ہوتی ہے

تارے ٹوٹ کے دامن میں گر جاتے ہیں

جب مہمان یہاں اک دختر شب ہوتی ہے

اک بے داغ دوپٹے میں پاکیزہ نور

کتنی اجلی اس کی نماز میں چھب ہوتی ہے

گری پڑی دیکھی ہے سڑک پر تنہائی

پچھلے پہر کو شہر کی نیند عجب ہوتی ہے

اکثر میں نے قبرستان میں غور کیا

اپنی مٹی اپنے ہاتھ میں کب ہوتی ہے

اب لگتا ہے اک دل بھی ہے سینے میں

پہلے کچھ تکلیف نہیں تھی اب ہوتی ہے

عشق کیا تو اپنی ہی نادانی تھی

ورنہ دنیا جان کی دشمن کب ہوتی ہے

قدم قدم پر ہم نے آپ سے نفرت کی

ایسی محبت دل میں کسی کے کب ہوتی ہے

جیسے اک جنت کی نعمت مل جائے

میرے لئے تو گھر کی فضا ہی سب ہوتی ہے

ڈوبنے والا پھر اوپر آ جاتا ہے

کبھی کبھی دریا کی موج غضب ہوتی ہے

رشک سے میرا چہرہ تکتی ہے دنیا

جان کی دشمن اس کی سرخیٔ لب ہوتی ہے

ف س اعجاز

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(636) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Fay Seen Ejaz, Achhi Khasi Ruswai Ka Sabab Hoti Hae in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 24 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Fay Seen Ejaz.