Tumhari Manzil KaheeN NahiN Hae

تمہاری منزل کہیں نہیں ہے

بے بسی کا عذاب

اداس رستوں پہ چلنے والو

اداسیوں کا سفر مقدر ہے

تم یہ رستے بدل بھی لو تو نشان منزل

تمہاری آنکھوں کی تیرگی میں

لپٹ کے بے نام ہو رہے گا

یہ شہر یہ بستیاں یہ قریے

بس ایک بے نام خوف کی زد میں آ گئے ہیں

تمہاری آنکھوں میں

کن خزاؤں کی زرد ویرانیاں بسی ہیں

تمہارے ہونٹوں پہ زہر بے رنگ کی تہیں کس لئے جمی ہیں

تمہارے چہروں کا خاک سا رنگ

کون سے درد کا اثر ہے

اداس رستوں پہ چلنے والو

اگر امیدوں کے پیڑ پت جھڑ کی زد میں ہیں

تو انہیں جڑوں سے اکھاڑ پھینکو

تمہاری آنکھوں میں زرد ویرانیاں بسی ہیں

تو اپنی آنکھوں نکال ڈالو

تمہارے شہروں میں خوف آسیب بن گیا ہے

تو سب مکانوں کو راکھ کر دو

مگر کبھی یوں نہ ہو سکے گا

کہ جو بنانے کی آرزو میں بگاڑتے ہیں

وہ ہاتھ ہی بے بسی کے پنجرے میں بند ہیں

ان اداس رستوں پہ چلنے والو

مجھے بھی ہم راہ لے کے چلنا

کہ میں اکیلا کہاں رہوں گا

فیاض تحسین

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(393) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Fayyaz Tehseen, Tumhari Manzil KaheeN NahiN Hae in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 6 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Fayyaz Tehseen.