Odas Dekh Kay Wajh E Malal Poochhiay Ga

اداس دیکھ کے وجہ ملال پوچھے گا

اداس دیکھ کے وجہ ملال پوچھے گا

وہ مہرباں نہیں ایسا کہ حال پوچھے گا

جواب دے نہ سکو گے پلٹ کے ماضی کو

اک ایک لمحہ وہ چبھتے سوال پوچھے گا

دلوں کے زخم دہن میں زباں نہیں رکھتے

تو کس سے ذائقۂ اندمال پوچھے گا

کبھی تو لا کے ملا مجھ سے میرے قاتل کو

جو سر ہے دوش پہ تیرے وبال پوچھے گا

یہ کیا خبر تھی کہ سینے کے داغ لو دیں گے

کوئی جو محنت فن کا مآل پوچھے گا

تو حرف عشق و بصیرت ہے لب نہ سی اپنے

زمانہ تجھ سے بھی تیرا خیال پوچھے گا

مجھے تراش کے رکھ لو کہ آنے والا وقت

خزف دکھا کے گہر کی مثال پوچھے گا

بنا کے پھول کی خوشبو پھرائے گی صدیوں

ہوا سے کون رہ اعتدال پوچھے گا

یہ ایک پل جو ہے مجہول شخص کی صورت

مزاج آگہی ماہ و سال پوچھے گا

یہاں تعین اقدار بھی ضروری ہے

خود اپنے مشک کی قیمت غزال پوچھے گا

مرا قلم ابدیت کی روشنی ہے فضاؔ

اس آفتاب کو اب کیا زوال پوچھے گا

فضا ابن فیضی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1054) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Faza Ibn E Faizi, Odas Dekh Kay Wajh E Malal Poochhiay Ga in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 35 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.6 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Faza Ibn E Faizi.