Ju Iss Berehem Per Apna Dil Khana Kharab Aaya

جو اس بے رحم پر اپنا دل خانہ خراب آیا

جو اس بے رحم پر اپنا دل خانہ خراب آیا

گئے صبر و تحمل ہوش و طاقت اضطراب آیا

ہوا بدلی گھٹا چھائی وہ بارش کا سحاب آیا

مگر اب تک نہ اے پیر مغاں دور شراب آیا

سر محشر وہ یار شعلہ رو جب بے نقاب آیا

تو اہل حشر چیخ اٹھے زمیں پر آفتاب آیا

سر محفل عدو سے وصل کا اقرار کرنا تھا

تمہیں کچھ بھی حیا آئی تمہیں کچھ بھی حجاب آیا

شب فرقت کسی نے بھی نہ مجھ ناکام کو پوچھا

نہ تم آئے نہ موت آئی نہ صبر آیا نہ خواب آیا

جفا جو سنگ دل بے رحم ہے وعدہ شکن ہے وہ

تو آیا بھی تو کس پر اے دل خانہ خراب آیا

غضب ہے یار نے سر کاٹ کر بھیجا ہے قاصد کا

جواب آیا ہمارے نامہ کا تو یہ جواب آیا

ہوئی توبہ بھی ٹکڑے ٹکڑے مثل ساغر و مینا

ہمارے سامنے اے شیخ جب دور شراب آیا

جو چھو لی زلف پر خم میں نے برہم ہو گئے مجھ سے

ہنسی کی بات تھی صاحب مگر تم کو عتاب آیا

کھلا سب حال ہم پر اس جہاں کی بے ثباتی کا

مٹا سطح سمندر پر ابھر کر جو حباب آیا

ابھی تک ہے وہی غفلت سفیدی بالوں پر آئی

اٹھو بہر خدا صابرؔ کہ سر پر آفتاب آیا

فضل حسین صابر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(447) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Fazal Husain Sabir, Ju Iss Berehem Per Apna Dil Khana Kharab Aaya in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 34 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Fazal Husain Sabir.