Kuchh Kaam Tu Aaya Dil Nakam Hamara

کچھ کام تو آیا دل ناکام ہمارا

کچھ کام تو آیا دل ناکام ہمارا

ٹوٹا ہے تو ٹوٹا ہی سہی جام ہمارا

جتنا اسے سمجھا کئے بیگانۂ تاثیر

اتنا تو نہ تھا جذبۂ دل خام ہمارا

یہ کون مقام آیا قدم اٹھتے نہیں ہیں

منزل پہ ٹھہرنا تو نہ تھا کام ہمارا

ہم جیسے تڑپتے ہیں تڑپتے رہے دن رات

کچھ کر نہ سکی گردش ایام ہمارا

یہ گردش پیمانہ ہے یا گردش تقدیر

ساقی کسی ساغر پہ تو ہو نام ہمارا

پھولوں کی ہنسی باعث تخریب چمن ہے

کانٹوں پہ نہیں ہے کوئی الزام ہمارا

ہم گردش ساغر کو نگاہوں میں لئے ہیں

دیکھے کوئی حسن طلب جام ہمارا

آغاز محبت ہی کا اعجاز کرم ہے

دل ہو گیا بیگانۂ انجام ہمارا

انداز تڑپنے کا جداگانہ ہے لیکن

ہے کوئی فگارؔ اور بھی ہم نام ہمارا

فگار اناوی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(365) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Figar Unnavi, Kuchh Kaam Tu Aaya Dil Nakam Hamara in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 16 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Figar Unnavi.