مشہور شاعر فراق گورکھپوری کی شاعری ۔ نظمیں اور غزلیں

ہاتھ آئے تو وہی دامن جاناں ہو جائے

فراق گورکھپوری

سمجھتا ہوں کہ تو مجھ سے جدا ہے

فراق گورکھپوری

فراقؔ اک نئی صورت نکل تو سکتی ہے

فراق گورکھپوری

وقت غروب آج کرامات ہو گئی

فراق گورکھپوری

یہ موت و عدم کون و مکاں اور ہی کچھ ہے

فراق گورکھپوری

یہ نکہتوں کی نرم روی یہ ہوا یہ رات

فراق گورکھپوری

عشق کی مایوسیوں میں سوز پنہاں کچھ نہیں

فراق گورکھپوری

آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاں

فراق گورکھپوری

کچھ اشارے تھے جنہیں دنیا سمجھ بیٹھے تھے ہم

فراق گورکھپوری

آزادی

فراق گورکھپوری

شام غم کچھ اس نگاہ ناز کی باتیں کرو

فراق گورکھپوری

جن کی زندگی دامن تک ہے بے چارے فرزانے ہیں

فراق گورکھپوری

غم ترا جلوہ گہہ کون و مکاں ہے کہ جو تھا

فراق گورکھپوری

آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے

فراق گورکھپوری

اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہے

فراق گورکھپوری

زندگی درد کی کہانی ہے

فراق گورکھپوری

دیدار میں اک طرفہ دیدار نظر آیا

فراق گورکھپوری

دور آغاز جفا دل کا سہارا نکلا

فراق گورکھپوری

آج بھی قافلۂ عشق رواں ہے کہ جو تھا

فراق گورکھپوری

اپنے حواس میں شب غم کب حیات ہے

فراق گورکھپوری

کم کہاں گل سے خار ہے اے دوست

فراق گورکھپوری

آج بھی قافلہ عشق رواں ہے کہ جو تھا

فراق گورکھپوری

اشک کی گلفشانیاں نہ کئیں

فراق گورکھپوری

دل میں کچھ غم ہے، کچھ سرور بھی ہے

فراق گورکھپوری

Records 1 To 24 (Total 69 Records)