Jin Ki Zindagi Daman Tak Hai Be Charay Farzane Hain

جن کی زندگی دامن تک ہے بے چارے فرزانے ہیں

جن کی زندگی دامن تک ہے بے چارے فرزانے ہیں

خاک اڑاتے پھرتے ہیں جو دیوانے دیوانے ہیں

وحدت انساں اپنے کو شاعر سے منوا لیتی ہے

کیا انجانے کیا بیگانے سب جانے پہچانے ہیں

مجھ کو شاعر کہنے والو میں کیا میری غزلیں کیا

میں نے تو بس سرکار عشق میں کچھ پرچے گزرانے ہیں

بھولے بھالے محبوبوں سے داؤں پیچ کچھ چل نہ سکا

ہم یہ سمجھتے رہے ابھی تک ہم بھی کتنے سیانے ہیں

ہوش و خرد کیا جوش جنوں کیا الٹی گنگا بہتی ہے

کیا فرزانے کیسے سیانے یارو سب دیوانے ہیں

جل بجھنے کی بھی توفیق کہاں عشاق کی قسمت میں

اک ان دیکھی شمع بزم کے دل والے پروانے ہیں

شاعر سے ہمدردی سیکھو دنیا کے غم خانے میں

جتنے غم ہیں دنیا بھر میں اس کے مانے جانے ہیں

شہر نگاراں شہر نگاراں کون بتائے کیسا ہے

پوچھتے ہو کیا ہم سے یارو ہم بھی تو بیگانے ہیں

بس وہ انہی سے فطرت کو خالوں کے لباس پہناتا ہے

شاعر کے پلے کیا ہے گیتوں کے تانے بانے ہیں

کتنے بیگانے ہوتے ہیں یہ جانے پہچانے لوگ

جانے ہوئے بھی بقول ہمارے انجانے بیگانے ہیں

آج سے پہلے کب تھے وطن میں بے وطنی کے یہ لچھن

لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے گھر بھی غربت خانے ہیں

کچھ نہیں کھلتا کس کی زد میں یہ ہستیٔ گریزاں ہے

ہم جو اتنے بچے پھرتے ہیں کن تیروں کے نشانے ہیں

اس گم کردۂ دیدہ و دل کو کل تک کتنے جانتے تھے

اب تو فراقؔ بے خود کے عالم عالم افسانے ہیں

فراق گورکھپوری

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(658) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Firaq Gorakhpuri, Jin Ki Zindagi Daman Tak Hai Be Charay Farzane Hain in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 69 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Firaq Gorakhpuri.