Kuch Isharay Thay Jinhain Duniya Samajh Baithy Thay Hum

کچھ اشارے تھے جنہیں دنیا سمجھ بیٹھے تھے ہم

کچھ اشارے تھے جنہیں دنیا سمجھ بیٹھے تھے ہم

اس نگاہ آشنا کو کیا سمجھ بیٹھے تھے ہم

رفتہ رفتہ غیر اپنی ہی نظر میں ہو گئے

واہ ری غفلت تجھے اپنا سمجھ بیٹھے تھے ہم

ہوش کی توفیق بھی کب اہل دل کو ہو سکی

عشق میں اپنے کو دیوانہ سمجھ بیٹھے تھے ہم

پردۂ آزردگی میں تھی وہ جان التفات

جس ادا کو رنجش بے جا سمجھ بیٹھے تھے ہم

کیا کہیں الفت میں راز بے حسی کیوں کر کھلا

ہر نظر کو تیری درد افزا سمجھ بیٹھے تھے ہم

بے نیازی کو تری پایا سراسر سوز و درد

تجھ کو اک دنیا سے بیگانہ سمجھ بیٹھے تھے ہم

انقلاب پے بہ پے ہر گردش و ہر دور میں

اس زمین و آسماں کو کیا سمجھ بیٹھے تھے ہم

بھول بیٹھی وہ نگاہ ناز عہد دوستی

اس کو بھی اپنی طبیعت کا سمجھ بیٹھے تھے ہم

صاف الگ ہم کو جنون عاشقی نے کر دیا

خود کو تیرے درد کا پردا سمجھ بیٹھے تھے ہم

کان بجتے ہیں محبت کے سکوت ناز کو

داستاں کا ختم ہو جانا سمجھ بیٹھے تھے ہم

باتوں باتوں میں پیام مرگ بھی آ ہی گیا

ان نگاہوں کو حیات افزا سمجھ بیٹھے تھے ہم

اب نہیں تاب سپاس حسن اس دل کو جسے

بے قرار شکوۂ بیجا سمجھ بیٹھے تھے ہم

ایک دنیا درد کی تصویر نکلی عشق کو

کوہکن اور قیس کا قصہ سمجھ بیٹھے تھے ہم

رفتہ رفتہ عشق مانوس جہاں ہوتا چلا

خود کو تیرے ہجر میں تنہا سمجھ بیٹھے تھے ہم

حسن کو اک حسن ہی سمجھے نہیں اور اے فراقؔ

مہرباں نامہرباں کیا کیا سمجھ بیٹھے تھے ہم

فراق گورکھپوری

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(3321) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Firaq Gorakhpuri, Kuch Isharay Thay Jinhain Duniya Samajh Baithy Thay Hum in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 69 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Firaq Gorakhpuri.