Koi Sochta Hai Ke Yahi Din Decemeber Ke

کوئی سوچتا ہے کہ یہی دن دسمبر کے

کوئی سوچتا ہے کہ یہی دن دسمبر کے دھند میں لپٹی ہوئی صبحیں

دھند سے چھپی ہوئی شامیں اور پھر اِن شاموں کا رات میں ڈھلناکتنا دلربا تھا۔

کوئی سوچتا ہے کہ یہی دن ہیں دسمبر کے دھند میں لپٹے ہوئے

منظر میں یادوں کے نقش کتنے واضع ہو رہے ہیں۔

بچھڑے ہوئے لوگوں سےآخری بارملنےکی تمنا ہے۔

کہ ملنے والوں سے بچھڑنے کی خواہش ہے۔

کیا ہے کچھ پتہ نہیں چلتا۔کوئی سوچتاہے کہ دسمبر کی

طویل گہری راتوں میں ہر گھڑی کتنی جاگتی ہوئی تھی۔

شوق سے بھرے لمحے اور زندگی سے بھر پور زندگی۔

کوئی سوچتا ہے کہ اب ان لمبی سیاہ سرد راتوں میں ہرگھڑی غم سے بوجھل ہے۔

ہر پل دکھی ہے دور تک کوئی امید نہیں،

کوئی آس نہیں، کوئی امکان نہیں ، کوئی ارمان نہیں۔

کوئی سوچتاہے کہ کبھی باتوں میں رات کٹتی تھی،

پر وہ بات کیا تھی جو ہر رات ادھوری رہتی ۔

بات سے رات شروع ہوتی ،بات سے رات ختم ہوتی

پر بات ۔۔۔۔ بات کی کیا بات تھی۔

کوئی سوچتا ہے کہ شاہد اب کوئی بات بھی نہیں جو کہی جائے

اب کوئی بات بھی نہیں جو سنی جائے

اب رات شروع ہوتی ہے

رات ختم ہوتی ہے ، پر کوئی بات نہیں ہوتی۔

کوئی سوچتا ہے کہ یہی دسمبر تھا طویل سرد راتوں میں گھومنا کتنا مسحورکن تھا

راستوں سے جیسے دوستی ہو گئی تھی،راہیں پکارتی تھیں ، گلیاں آواز دیا کرتی تھیں۔

اور یونہی کسی کا ہاتھ تھام کر کبھی اِس کوچے میں کبھی اُس کوچے میں

گہری سردی تھی اور بس کوچہ گردی تھی۔

کوئی سوچتا ہے کہ اب کوئی ساتھ بھی نہیں

کہ اُس کا ہاتھ تھامے دسمبر کے اِس طویل راتوں میں گھوما جائے

اور اب ان مانوس گلیوں میں کوئی آشناء نہیں

جانے پہچانے راستے انجان ہوئے ہیں

چپ لگی ہے چار سُو،اور گہرا سناٹا ہے۔

کوئی سوچتا ہے کہ یہی دسمبر تھا

جب لگتا تھا کہ زندگی یونہی رہے گی

دن خوشی سے جھومتے رہے گے

اور راتیں جاگتی رہے گی، اور یونہی وقت گزرے گا کہ وقت کے گزرنے کا احساس نہ ہو گا

خیال نہ ہو گا، اذیت نہ ہوگی۔

کوئی سوچتا ہے کہ یہی دسمبر ہے

جب کمرے کے آتش دان میں آگ بجھی ہے اور وہ ہے کہ سلگ رہا ہے

بس یاد ہی یا د ہے اور کیا یاد ہے کچھ بھی یاد نہیں شاہد

کوئی سوچتا ہے کہ وقت اک بار خود کو دہرائے تو

گیا وقت پھر ہاتھ آئے تو،دسمبر کی ان طویل راتوں کو اور بھی حسین بنا لوں میں

کسی کا ساتھ اپنا لوں میں،کسی کا ساتھ نبھا لوں میں

اپنی کج ادائی کا کچھ تو ازالہ ہوا۔

کوئی سوچتاہے کہ بیتے ہوئے زمانے کے پھر سے آ جانے میں رکھا ہی کیا ہے

کسی کا ساتھ پھر زخم دے،کسی کا ہاتھ پھر سے چُھوٹے

کوئی پھر بے وفا ہو گا،ہر آغاز کا انجام پتہ ہے اب،ہر کوئی ناکام ہے پتہ ہے

اداسی ، تنہائی اور یاداور سُونا کمرہ جس کی دیواریں بھی بات نہیں سنتی۔

کوئی سوچتا ہے کہ دسمبر کی ان طویل راتوں میں دل پہ جو گزرتی ہے

گزرتی ہوئی ہر بات بتائی جائے، کتنی اذیت دیتی ہیں یادیں

یادوں میں اُبھرتے کسی کے خال و خد، کسی کا چھریرا بدن

کسی کا سرو قد، کسی کی دلفریب ہنسی،کسی کا دلگداس رونا

کسی کا ہونا،اور کسی کا نہ ہونا۔

کوئی سوچتا ہے کہ ان اذیت کی گھڑیوں کواب چپ سے سہہ لیا جائے

کیا رکھا ہے دکھ کی اِس تشہیر میں،غم کی نمائش میں

کس کو فرصت ہے کہ سنے داستانِ الم،

کوئی سوچتا ہے کہ یادوں کے ابھرتے نقش مٹ رہے ہیں

کہ وہ خود مٹ رہا ہے

دسمبر کی سرد، تنہا، طویل راتوں میں کوئی سوچتاہے۔

غضنفر ناطق

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(3779) ووٹ وصول ہوئے

Related Poetry

Your Thoughts and Comments

Koi Sochta Hai Ke Yahi Din Decemeber Ke by Ghazanfar Natiq - Read Ghazanfar Natiq's best Shayari Koi Sochta Hai Ke Yahi Din Decemeber Ke at UrduPoint. Here you can read the best poetry Koi Sochta Hai Ke Yahi Din Decemeber Ke of Ghazanfar Natiq. Koi Sochta Hai Ke Yahi Din Decemeber Ke is the most famous poetry by Ghazanfar Natiq. People love to read poetry by Ghazanfar Natiq, and Koi Sochta Hai Ke Yahi Din Decemeber Ke by Ghazanfar Natiq is best among the whole collection of poetry by Ghazanfar Natiq.

Ghazanfar Natiq is the most famous Urdu Poet. Therefore, people love to read Urdu Poetry of Ghazanfar Natiq. At UrduPoint, you can find the complete collection of Urdu Poetry of Ghazanfar Natiq. On this page, you can read Koi Sochta Hai Ke Yahi Din Decemeber Ke by Ghazanfar Natiq. Koi Sochta Hai Ke Yahi Din Decemeber Ke is the best poetry by Ghazanfar Natiq.

Read the Ghazanfar Natiq's best poetry Koi Sochta Hai Ke Yahi Din Decemeber Ke here at UrduPoint; you will surely like it. If we make a list of Ghazanfar Natiq's best Shayari, Koi Sochta Hai Ke Yahi Din Decemeber Ke of Ghazanfar Natiq will be at the top. Many people, who love the Urdu Shayari of Ghazanfar Natiq, regard it as the best poetry Koi Sochta Hai Ke Yahi Din Decemeber Ke of Ghazanfar Natiq.

We recommend you read the most famous poetry, Koi Sochta Hai Ke Yahi Din Decemeber Ke of Ghazanfar Natiq here, you will surely love it. Also, don't forget to share it with others.