Namood Pate Hain Manazron Ki Shikast Se Fatah Ke Bahanay

نمود پاتے ہیں منظروں کی شکست سے فتح کے بہانے

نمود پاتے ہیں منظروں کی شکست سے فتح کے بہانے

چراغ زندہ کیا ہے میرا گلی میں دم توڑتی ہوا نے

یہ جانتے ہیں کہ سامنے ہے گریز کرتی ہوئی محبت

مگر مرے ساتھ چل رہے ہیں وہی مظاہر وہی زمانے

مسافروں کے لیے تو یکساں ہے دشت اور شہر سے گزرنا

کہ شام ہوتے ہی تان لیتے ہیں لوگ خوابوں کے شامیانے

تو کیوں یہ ساحل کی دھوپ میرے نڈھال قدموں سے آ لگی ہے

مجھے کنارے لگا دیا ہے اگر کسی شخص کی دعا نے

کسی کو اک آتش گماں نے تمام تر راکھ کر دیا ہے

کسی کو کندن بنا دیا ہے یقین کی خاک کیمیا نے

ہر آن میرے وجود میں یوں انا کی تعمیر ہو رہی ہے

کہ جیسے بھیجا گیا ہوں میں بھی زمین پر اک مکاں بنانے

مجھے یقیں ہے کہ میرے بس میں ہے منزل شوق پر اترنا

مجھے بہت حوصلہ دیا ہے مری محبت مرے خدا نے

غلام حسین ساجد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(353) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ghulam Hussain Sajid, Namood Pate Hain Manazron Ki Shikast Se Fatah Ke Bahanay in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 88 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ghulam Hussain Sajid.