Theharnay Ko Hai Bastii Ke Dar O Deewar Par Pani

ٹھہرنے کو ہے بستی کے در و دیوار پر پانی

ٹھہرنے کو ہے بستی کے در و دیوار پر پانی

کہ اب پتھر میں ڈھلتی جا رہی ہے موج حیرانی

خیال آتا ہے شہر آرزو کو چھوڑ دینے کا

بہت دشوار ہو جاتی ہے جب بھی کوئی آسانی

یقیں آیا کہ ارزاں ہے متاع لطف دنیا میں

نتیجہ ہے عدو کی قدر کرنے کا پشیمانی

مسلسل بڑھ رہا ہوں جادۂ اسلام پر اب تک

مگر خوش آئے گا کس کو مرا طر مسلمانی

وہی صورت وہی اطوار نیک و بد وہی لہجہ

وہ پل بھر میں کہیں سے ڈھونڈ لایا ہے مرا ثانی

مرے شعروں میں بہتا ہے سمندر میرے ورثے کا

کہ میں گلشن طراز رنگ سحباں ہوں نہ خاقانی

جدائی کی کسک مٹ جائے گی ساجدؔ مرے دل سے

اگر پہچان لے بڑھ کر مجھے وہ دلبر جانی

غلام حسین ساجد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(425) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ghulam Hussain Sajid, Theharnay Ko Hai Bastii Ke Dar O Deewar Par Pani in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 88 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ghulam Hussain Sajid.