Zameen Mari Rahay Gi Nah Aayina Mera

زمین میری رہے گی نہ آئنہ میرا

زمین میری رہے گی نہ آئنہ میرا

کہ آزمانے چلا ہے مجھے خدا میرا

مرے طلسم سے آزاد بھی نہیں لیکن

وہ پھول پہلی نظر میں ہوا نہ تھا میرا

نعیم بصرہ و بغداد ہارنے کے بعد

مرا وجود بھی شاید نہیں رہا میرا

وہ میرے پاس رہے یا کہیں چلا جائے

رہے گا اس کے خیالوں سے سلسلہ میرا

کسی کی کھوج میں نکلا تھا بے ارادہ میں

بدن نڈھال تھا سر گھومتا ہوا میرا

نہیں ہے اب مجھے انجام کی کوئی پروا

بڑھا دیا ہے محبت نے حوصلہ میرا

ہوا ہے قطع مسافت کا سلسلہ جاری

میں رک گیا تو بدن ٹوٹنے لگا میرا

یقیں نہیں ہے مگر نقش ہے مرے دل پر

کہ اک پری نے بنایا ہے زائچہ میرا

وہ بار بار پلٹتا ہے دور جا جا کر

سو ٹوٹ ٹوٹ کے جڑتا ہے رابطہ میرا

نظر کی حد پہ جو اک نجم خواب ہے ساجدؔ

وہی چراغ ہے اس کا وہی دیا میرا

غلام حسین ساجد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(513) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ghulam Hussain Sajid, Zameen Mari Rahay Gi Nah Aayina Mera in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 88 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.5 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ghulam Hussain Sajid.