Kya Kahin Tujh Se Hum Wafa Kya Hai

کیا کہیں تجھ سے ہم وفا کیا ہے

کیا کہیں تجھ سے ہم وفا کیا ہے

سوچ کچھ دل میں پوچھتا کیا ہے

دل ہے یہ یا کہ آبلہ کیا ہے

کیوں ہے اتنا بھرا ہوا کیا ہے

کیسے کیسے جواں کیے برباد

عشق کیا شے ہے یہ بلا کیا ہے

دل کو دینا تھا دے دیا ظالم

اور ہم نے ترا لیا کیا ہے

گر رقابت تمہیں نہیں مجھ سے

پھر یہ آئینہ دیکھنا کیا ہے

پہلے رکھ لے تو اپنے دل پر ہاتھ

پھر مرے خط کو پڑھ لکھا کیا ہے

اب وہ آنکھیں نہیں ہیں پہلی سی

سچ کہو تم کو ہو گیا کیا ہے

شوق عاشق کشی بھلا ہی سہی

رحم کرنا بھی پر برا کیا ہے

کیا کہیں ہم برا کہ خو ہی نہیں

پر کہو تم ہی یہ جفا کیا ہے

جب کہ گردن پہ خوں رہا اس کی

نام مت لو کہ خوں بہا کیا ہے

میری اور آرزو کو تو پوچھے

سوچتا ہوں کہ مدعا کیا ہے

جانے کیا کیا ہوا ہے رزق خاک

گل و لالہ کو دیکھتا کیا ہے

دل عجب چیز ہے تو تم سے عزیز

رہنے بھی دو معاملہ کیا ہے

آگے آگے ہیں پارہ ہائے جیب

مجھ کو درکار رہنما کیا ہے

کم نگاہی بھی شرط حسن ہے پر

دیکھ تو ہم میں اب رہا کیا ہے

قتل ہوتے رہے ہیں ہم سے پوچھ

لے کے شمشیر سوچتا کیا ہے

پی گئی خوں زمیں ہزاروں کی

مفت پھر شوخئ حنا کیا ہے

دونوں عالم کو کیوں کیا پامال

نقش پا پر یہ نقش پا کیا ہے

اے قلقؔ کیوں قلندری چھوڑی

یہ عبا کیا ہے یہ قبا کیا ہے

غلام مولیٰ قلق

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(342) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of GHULAM MAULA QALAQ, Kya Kahin Tujh Se Hum Wafa Kya Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 44 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of GHULAM MAULA QALAQ.