Samita Paatil

سمیتا پاٹل

دل کے مندر میں خوشبو ہے لوبان کی، گھنٹیاں بج اٹھیں، دیو داسی تھی وہ

کتنے سرکش اندھیروں میں جلتی رہی دیکھنے میں تو مشعل ذرا سی تھی وہ

نور و نغمہ کی رم جھم پھواروں تلے مسکراتی ہوئی اک اداسی تھی وہ

پانیوں کی فراوانیوں میں رواں اس کی حیرانیاں کتنی پیاسی تھی وہ

حسن انساں سے فطرت کی سرگوشیاں گھل گئیں تیرے لہجے کی جھنکار میں

فن کی تکمیل سچا سراپا ترا، بے زبانی کو لایا جو اظہار میں

مدتوں تک نمائش کی خواہش رہی زندگی تب ڈھلی تیرے کردار میں

جو تھی زندہ محبت کی بنیاد پر وقت نے چن دیا اس کو دیوار میں

دھوپ ہر روپ میں، ریت ہر کھیت میں، فصل جذبات پر خشک سالی رہے

دو گھڑی دل کسی کے خیالوں میں گم اور پھر عمر بھر بے خیالی رہے

آئنہ اب ترستا رہے عکس کو اور نظر روشنی کی سوالی رہے

میرے حصے کا یہ آنکھ بھر آسماں جگمگاتے ستارے سے خالی رہے

غلام محمد قاصر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(573) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ghulam Muhammad Qasir, Samita Paatil in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 48 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ghulam Muhammad Qasir.