Main Khandaron Ki Zame Pay Kab Se Bhatak Raha Hon

میں کھنڈروں کی زمیں پہ کب سے بھٹک رہا ہوں

میں کھنڈروں کی زمیں پہ کب سے بھٹک رہا ہوں

قدیم راتوں کی ٹوٹی قبروں کے میلے کتبے

دنوں کی ٹوٹی ہوئی صلیبیں گری پڑی ہیں

شفق کی ٹھنڈی چتاؤں سے راکھ اڑ رہی ہے

جگہ جگہ گرز وقت کے چور ہو گئے ہیں

جگہ جگہ ڈھیر ہو گئی ہیں عظیم صدیاں

میں کھنڈروں کی زمیں پہ کب سے بھٹک رہا ہوں

یہیں مقدس، ہتھیلیوں سے گری ہے مہندی

دیوں کی ٹوٹی ہوئی لویں زنگ کھا گئی ہیں

یہیں پہ ماتھوں کی روشنی جل کے بجھ گئی ہے

سپاٹ چہروں کے خالی پنے کھلے ہوئے ہیں

حروف آنکھوں کے مٹ چکے ہیں

میں کھنڈروں کی زمیں پہ کب سے بھٹک رہا ہوں

یہیں کہیں زندگی کے معنی گرے ہیں اور گر کے کھو گئے ہیں

گلزار

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(663) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Gulzar, Main Khandaron Ki Zame Pay Kab Se Bhatak Raha Hon in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 107 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.9 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Gulzar.