Faryad Bhi Mein Kar Nah Saka Be Khaberi Se

فریاد بھی میں کر نہ سکا بے خبری سے

فریاد بھی میں کر نہ سکا بے خبری سے

دل کھینچ لیا اس نے کمند نظری سے

اس بت کو کیا رام نہ سوز جگری سے

نالے مرے بدنام ہوئے بے اثری سے

کب دل پہ اثر کرتا ہے ظالم کا تملق

ملتے ہیں کہیں زخم جگر بخیہ گری سے

ہے سایہ فگن تازہ نہال چمن حسن

نسبت مرے دل کو ہے عقیق شجری سے

اڑ جاتے تیرے ہوش مرے نغموں سے بلبل

کر شکر کہ مجبور ہوں بے بال و پری سے

ہر لطف سے خالی ہے فروغ دم پیری

روشن ہوا یہ نور چراغ سحری سے

دامن کی کلی باد صبا کھول سکے کب

ساتر نہیں ڈرتے ہیں کبھی پردہ دری سے

الفت کا شجر سرو قدوں کی ہے ہری شاخ

عشاق کو باور ہوا یہ بے ثمری سے

کہتے ہیں وہ سن کر خبر رحلت عشاق

جلدی گیا کہنا تھا ہمیں کچھ سفری سے

ہوں لاکھ خطر کوچۂ دلبر نہ چھٹے گا

اٹھ سکتی ہے ذلت بھی کہیں مرد جری سے

نفرت نہیں لازم تجھے ظالم عوض رحم

بیٹھا ہوں میں دل کھو کے تری حیلہ گری سے

عامل کریں اک بار اگر بند تو میکش

خالی کریں سو مرتبہ شیشہ کو پری سے

کر دیتے ہیں یوں ہرزہ درا کو کملا بند

لب زخم کے جس طرح ملیں بخیہ گری سے

اغیار ہوے کب مری ناکامی کا باعث

محرومیاں پیدا ہوئیں آشفتہ سری سے

کر غیر کو اپنا کہ مرادوں کا نشاں دے

بے کار وہ پیکاں ہے جدا ہو جو سری سے

اعمال حبیبؔ جگر افگار کی کشتی

ساحل پہ پہنچ جائے گی اشکوں کی تری سے

حبیب موسوی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(540) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Habeeb Musvi, Faryad Bhi Mein Kar Nah Saka Be Khaberi Se in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 51 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Habeeb Musvi.