مشہور شاعر حبیب جالب کی شاعری ۔ نظمیں اور غزلیں (صفحہ نمبر 2)

کون بتائے کون سجھائے کون سے دیس سدھار گئے

حبیب جالب

جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہو

حبیب جالب

نظر نظر میں لیے تیرا پیار پھرتے ہیں

حبیب جالب

اس گلی کے لوگوں کو منہ لگا کے پچھتائے

حبیب جالب

کچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیں

حبیب جالب

ماں

حبیب جالب

دستور

حبیب جالب

تیرے ہونے سے

حبیب جالب

یوں وہ ظلمت سے رہا دست و گریباں یارو

حبیب جالب

کیا کیا لوگ گزر جاتے ہیں رنگ برنگی کاروں میں

حبیب جالب

شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں

حبیب جالب

وہی حالات ہیں فقیروں کے

حبیب جالب

گلشن کی فضا دھواں دھواں ہے

حبیب جالب

یہ اجڑے باغ ویرانے پرانے

حبیب جالب

یہ سوچ کر نہ مائل فریاد ہم ہوئے

حبیب جالب

اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں

حبیب جالب

دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے

حبیب جالب

دل والو کیوں دل سی دولت یوں بیکار لٹاتے ہو

حبیب جالب

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

حبیب جالب

بہت روشن ہے شام غم ہماری

حبیب جالب

جیون مجھ سے میں جیون سے شرماتا ہوں

حبیب جالب

چور تھا زخموں سے دل زخمی جگر بھی ہو گیا

حبیب جالب

پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے

حبیب جالب

ہم نے دل سے تجھے سدا مانا

حبیب جالب

Records 25 To 48 (Total 76 Records)