Din Bhar Kaafi House Main Baithy Kuch Dublay Putlay Naqad

دن بھر کافی ہاؤس میں بیٹھے کچھ دبلے پتلے نقاد

دن بھر کافی ہاؤس میں بیٹھے کچھ دبلے پتلے نقاد

بحث یہی کرتے رہتے ہیں سست ادب کی ہے رفتار

صرف ادب کے غم میں غلطاں چلنے پھرنے سے لاچار

چہروں سے ظاہر ہوتا ہے جیسے برسوں کے بیمار

اردو ادب میں ڈھائی ہیں شاعر میرؔ و غالبؔ آدھا جوشؔ

یا اک آدھ کسی کا مصرعہ یا اقبالؔ کے چند اشعار

یا پھر نظم ہے اک چوہے پر حامد مدنیؔ کا شہکار

کوئی نہیں ہے اچھا شاعر کوئی نہیں افسانہ نگار

منٹوؔ کرشنؔ ندیمؔ اور بیدیؔ ان میں جان تو ہے لیکن

عیب یہ ہے ان کے ہاتھوں میں کند زباں کی ہے تلوار

عالؔی افسر انشاؔ بابو ناصرؔ میرؔ کے بر خوردار

فیضؔ نے جو اب تک لکھا ہے کیا لکھا ہے سب بیکار

ان کو ادب کی صحت کا غم مجھ کو ان کی صحت کا

یہ بے چارے دکھ کے مارے جینے سے ہیں کیوں بے زار

حسن سے وحشت عشق سے نفرت اپنی ہی صورت سے پیار

خندۂ گل پر ایک تبسم گریۂ شبنم سے انکار

حبیب جالب

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(2470) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Habib Jalib, Din Bhar Kaafi House Main Baithy Kuch Dublay Putlay Naqad in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 76 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.5 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Habib Jalib.