حبیب جالب کی اداس اور غمگین شاعری

بس اک شعاع نور سے سایہ سمٹ گیا

حبیب جالب

ماورائے جہاں سے آئے ہیں

حبیب جالب

دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے

حبیب جالب

درخت سوکھ گئے رک گئے ندی نالے

حبیب جالب

دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے

حبیب جالب

درخت سوکھ گئے رک گئے ندی نالے

حبیب جالب

اک شخص با ضمیر مرا یار مصحفیؔ

حبیب جالب

عہد سزا

حبیب جالب

نظر نظر میں لیے تیرا پیار پھرتے ہیں

حبیب جالب

اس گلی کے لوگوں کو منہ لگا کے پچھتائے

حبیب جالب

کچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیں

حبیب جالب

دستور

حبیب جالب

تیرے ہونے سے

حبیب جالب

یوں وہ ظلمت سے رہا دست و گریباں یارو

حبیب جالب

کیا کیا لوگ گزر جاتے ہیں رنگ برنگی کاروں میں

حبیب جالب

شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں

حبیب جالب

وہی حالات ہیں فقیروں کے

حبیب جالب

گلشن کی فضا دھواں دھواں ہے

حبیب جالب

یہ سوچ کر نہ مائل فریاد ہم ہوئے

حبیب جالب

اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں

حبیب جالب

دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے

حبیب جالب

دل والو کیوں دل سی دولت یوں بیکار لٹاتے ہو

حبیب جالب

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

حبیب جالب

بہت روشن ہے شام غم ہماری

حبیب جالب

Records 1 To 24 (Total 53 Records)