مشہور شاعر حبیب جالب کی غزل شاعری ۔ حبیب جالب کی غزلیں

بس اک شعاع نور سے سایہ سمٹ گیا

حبیب جالب

بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا

حبیب جالب

ماورائے جہاں سے آئے ہیں

حبیب جالب

تو رنگ ہے غبار ہیں تیری گلی کے لوگ

حبیب جالب

ترے ماتھے پہ جب تک بل رہا ہے

حبیب جالب

دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے

حبیب جالب

درخت سوکھ گئے رک گئے ندی نالے

حبیب جالب

جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے

حبیب جالب

دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے

حبیب جالب

درخت سوکھ گئے رک گئے ندی نالے

حبیب جالب

جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے

حبیب جالب

وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہوگا

حبیب جالب

اک شخص با ضمیر مرا یار مصحفیؔ

حبیب جالب

آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ

حبیب جالب

کبھی تو مہرباں ہو کر بلا لیں

حبیب جالب

لوگ گیتوں کا نگر یاد آیا

حبیب جالب

کم پرانا بہت نیا تھا فراق

حبیب جالب

گھر کے زنداں سے اسے فرصت ملے تو آئے بھی

حبیب جالب

کون بتائے کون سجھائے کون سے دیس سدھار گئے

حبیب جالب

جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہو

حبیب جالب

نظر نظر میں لیے تیرا پیار پھرتے ہیں

حبیب جالب

اس گلی کے لوگوں کو منہ لگا کے پچھتائے

حبیب جالب

کچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیں

حبیب جالب

یوں وہ ظلمت سے رہا دست و گریباں یارو

حبیب جالب

Records 1 To 24 (Total 56 Records)