مشہور شاعر حبیب جالب کی نظم شاعری ۔ حبیب جالب کی نظمیں

میری بچی میں آؤں نہ آؤں

حبیب جالب

دن بھر کافی ہاؤس میں بیٹھے کچھ دبلے پتلے نقاد

حبیب جالب

سچ ہی لکھتے جانا

حبیب جالب

تیرے مدھر گیتوں کے سہارے

حبیب جالب

لائل پور

حبیب جالب

عہد سزا

حبیب جالب

ماں

حبیب جالب

دستور

حبیب جالب

تیرے ہونے سے

حبیب جالب

کوئی ممنون فرنگی کوئی ڈالر کا غلام

حبیب جالب

تو رنگ ہے،غبار ہیں تیری گلی کے لوگ

حبیب جالب

تو کلی نزہتوں نکہتوں میں پلی

حبیب جالب

ریستوران میں بیٹھو اور کانٹے سے کھانا کھائو

حبیب جالب

تیرے لیے میں کیا کیا صدمے سہتا ہوں

حبیب جالب

ابھی جو پاس سے گزری ہے خاک اڑاتی ہوئی

حبیب جالب

آخر کار یہ ساعت بھی قریب آ پہنچی

حبیب جالب

وہ بھی خائف نہیں تختئہ دار سع

حبیب جالب

میں تجھے پھول کہوں اور کہوں بھونروں سے

حبیب جالب

دن بھر کافی ہائوس میں بیٹھے کچھ دلبے پتلے نقاد

حبیب جالب

گھر سے نکلے کار میں بیٹھے

حبیب جالب