Ishq Main Chairr Hui Deedaa Tar Se Pehlay

عشق میں چھیڑ ہوئی دیدۂ تر سے پہلے

عشق میں چھیڑ ہوئی دیدۂ تر سے پہلے

غم کے بادل جو اٹھے تو یہیں پر سے پہلے

اب جہنم میں لیے جاتی ہے دل کی گرمی

آگ چمکی تھی یہ اللہ کے گھر سے پہلے

ہاتھ رکھ رکھ کے وہ سینے پہ کسی کا کہنا

دل سے درد اٹھتا ہے پہلے کہ جگر سے پہلے

دل کو اب آنکھ کی منزل میں بٹھا رکھیں گے

عشق گزرے گا اسی راہ گزر سے پہلے

وہ ہر وعدے سے انکار بہ طرز اقرار

وہ ہر اک بات پہ ہاں لفظ مگر سے پہلے

میرے قصے پہ وہی روشنی ڈالے شاید

شمع کم مایہ جو بجھتی ہے سحر سے پہلے

چاک دامانی گل کا ہے گلہ کیا بلبل

کہ الجھتا ہے یہ خود باد سحر سے پہلے

کچھ سمجھ دار تو ہیں نعش اٹھانے والے

لے چلے ہیں مجھے اس راہ گزر سے پہلے

دل نہیں ہارتے یوں بازی الفت میں حفیظؔ

کھیل آغاز ہوا کرتا ہے سر سے پہلے

حفیظ جالندھری

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(365) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Hafeez Jalandhari, Ishq Main Chairr Hui Deedaa Tar Se Pehlay in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 104 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Hafeez Jalandhari.