حفیظ جالندھری کی معاشرتی شاعری۔ معاشرتی نظمیں و غزلیں

تیرے کوچے میں ہے سکوں ورنہ

حفیظ جالندھری

توبہ توبہ شیخ جی توبہ کا پھر کس کو خیال

حفیظ جالندھری

تنہائی فراق میں امید بارہا

حفیظ جالندھری

تیرے کوچے میں ہے سکوں ورنہ

حفیظ جالندھری

توبہ توبہ شیخ جی توبہ کا پھر کس کو خیال

حفیظ جالندھری

تنہائی فراق میں امید بارہا

حفیظ جالندھری

تصور میں بھی اب وہ بے نقاب آتے نہیں مجھ تک

حفیظ جالندھری

تصور میں بھی اب وہ بے نقاب آتے نہیں مجھ تک

حفیظ جالندھری

پھر دے کے خوشی ہم اسے ناشاد کریں کیوں

حفیظ جالندھری

بھلائی نہیں جا سکیں گی یہ باتیں

حفیظ جالندھری

بظاہر سادگی سے مسکرا کر دیکھنے والو

حفیظ جالندھری

اہل زباں تو ہیں بہت کوئی نہیں ہے اہل دل

حفیظ جالندھری

اٹھ اٹھ کے بیٹھ بیٹھ چکی گرد راہ کی

حفیظ جالندھری

او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جا

حفیظ جالندھری

ان تلخ آنسوؤں کو نہ یوں منہ بنا کے پی

حفیظ جالندھری

الٰہی ایک غم روزگار کیا کم تھا

حفیظ جالندھری

اس کی صورت کو دیکھتا ہوں میں

حفیظ جالندھری

ان تلخ آنسوؤں کو نہ یوں منہ بنا کے پی

حفیظ جالندھری

الٰہی ایک غم روزگار کیا کم تھا

حفیظ جالندھری

اس کی صورت کو دیکھتا ہوں میں

حفیظ جالندھری

ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں

حفیظ جالندھری

احباب کا شکوہ کیا کیجئے خود ظاہر و باطن ایک نہیں

حفیظ جالندھری

اتریں گے کس کے حلق سے یہ دل خراش گھونٹ

حفیظ جالندھری

ابھی میعاد باقی ہے ستم کی

حفیظ جالندھری

Records 1 To 24 (Total 83 Records)