Yeh Mulaqat Mulaqat Nahi Hoti Hai

یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے

یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے

بات ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی ہے

باریابی کا برا ہو کہ اب ان کے در پر

اگلے وقتوں کی مدارات نہیں ہوتی ہے

غم تو گھنگھور گھٹاؤں کی طرح اٹھتے ہیں

ضبط کا دشت ہے برسات نہیں ہوتی ہے

یہ مرا تجربہ ہے حسن کوئی چال چلے

بازیٔ عشق کبھی مات نہیں ہوتی ہے

وصل ہے نام ہم آہنگی و یک رنگی کا

وصل میں کوئی بری بات نہیں ہوتی ہے

ہجر تنہائی ہے سورج ہے سوا نیزے پر

دن ہی رہتا ہے یہاں رات نہیں ہوتی ہے

ضبط گریہ کبھی کرتا ہوں تو فرماتے ہیں

آج کیا بات ہے برسات نہیں ہوتی ہے

مجھے اللہ کی قسم شعر میں تحسین بتاں

میں جو کرتا ہوں میری ذات نہیں ہوتی ہے

فکر تخلیق سخن مسند راحت پہ حفیظ

باعث کشف و کرامات نہیں ہوتی ہے

حفیظ جالندھری

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(226) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Hafeez Jalandhari, Yeh Mulaqat Mulaqat Nahi Hoti Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 33 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Hafeez Jalandhari.