Jis Din Talak Asar Meri Aah O Fghan Mein Tha

جس دن تلک اثر مری آہ و فغاں میں تھا

جس دن تلک اثر مری آہ و فغاں میں تھا

بتلاؤ کون چین سے سویا جہاں میں تھا

رکھتے تھے ہم بغل میں دل گرم وہ کہ بس

پڑ جاتا جس کے نام سے چھالا زباں میں تھا

عاشق کا کہیو پہلے ہی واں کام ہو گیا

تیرا ہنوز تیر پری رو کماں میں تھا

اے برق جس کی لاکھ جہنم تھے جیب میں

ایک اک شرر وہ نالۂ آتش فشاں میں تھا

لاکھوں کے دل کو باتوں ہی باتوں میں لے گیا

افسوں کہوں کہ سحر کہوں کیا بیاں میں تھا

آیا تھا کون سیر کو سچ کہیو عندلیب

جو شور الاماں کا پڑا گلستاں میں تھا

کیا پاس عشق ہے کہ موئے پر بھی راز عشق

سربستہ ووں ہی ہر قلم استخواں میں تھا

وہ گرم صرف ناز تھے واں بزم غیر میں

سرگرم اس طرف مرا دل صرف جاں میں تھا

چومے تھے کس کے ہونٹ کہ جو مرتے دم مزہ

تلخی کے بدلے قند کا میرے دہاں میں تھا

کچھ کیا چکا نسیم سحر برگ گل پہ کل

جھگڑا جو عندلیب میں اور باغباں میں تھا

ہاں واقعی ہے تم تو نہ تھے بزم غیر میں

افسوں مجھی کو پڑھ کے دیا برگ پاں میں تھا

بلبل کو باغ میں جو تڑپنے دیا بھلا

جز خار اس کے اور بھی کچھ آشیاں میں تھا

وہ ناتواں تھا دل عاشق کہ جس کا آہ

نالہ کبھی زمین و کبھی آسماں میں تھا

شب خواب میں معاملہ اس مہ جبیں سے عیشؔ

وہ پٹ گیا جو اپنے نہ وہم و گماں میں تھا

حکیم آغا جان عیش

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(390) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of HAKEEM AAGHA JAN AISH, Jis Din Talak Asar Meri Aah O Fghan Mein Tha in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 34 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of HAKEEM AAGHA JAN AISH.