Kiyon Akhir Mujhe Sheetan Kehte Hain

کیوں آخر مجھے شیطان کہتے ہیں

کیوں آخر مجھے شیطان کہتے ہیں

یہ سارے لوگ

کیوں آخر مجھے شیطان کہتے ہیں

اگر گنجا کوئی ہو سامنے چندیا چمکتی ہو

تو کیا یہ دل نہیں کہتا

چپت اک آدھ جڑنے کو

ہتھیلی جب کھجاتی ہے

میں ایسا کر گزرتا ہوں

مری بلڈنگ کا چوکیدار

سو جاتا ہے دن میں بھی

وہ خراٹے بھی لیتا ہے

جو اس کی ناک پر

اک ٹیپ چپکانے کو جی چاہے

میں ایسا کر گزرتا ہوں

پڑوسن آنٹی کی

مرغیاں انڈے جو دیتی ہیں

میں اکثر سوچتا ہوں

ان سے چوزے کیوں نکلتے ہیں

مری خواہش یہ ہوتی ہے

انہیں میں توڑ کر دیکھوں

میں ایسا کر گزرتا ہوں

گلی کے موڑ پہ

بیٹھا ہوا موٹا سا اک کتا

اگر دوڑے تو کیسا ہو

اگر بھونکے تو کیسا ہو

پٹاخہ اس کی دم پر باندھ کر

ماچس دکھانے کو

مرا جی چاہتا ہے گر

میں ایسا کر گزرتا ہوں

بزرگو مجھ کو بتلاؤ

یہ سب کرنے کو آخر کیا

کسی کا دل نہیں کہتا

کیا میں سب سے انوکھا ہوں

یہ سب شیطان کرتے ہیں

کوئی انساں نہیں کرتا

یہ سارے لوگ

کیوں آخر

مجھے شیطان کہتے ہیں

حامد اقبال صدیقی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(519) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Hamid Iqbal Siddiqui, Kiyon Akhir Mujhe Sheetan Kehte Hain in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 11 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Hamid Iqbal Siddiqui.