Tum Thay Khuda Tha Or Mujasam Dua Tha Main

تم تھے خدا تھا اور مجسم دعا تھا میں

تم تھے خدا تھا اور مجسم دعا تھا میں

یوں ہی تمہارے نام نہ لکھا گیا تھا میں

خواہش کے پھیلتے ہوئے منظر میں تم ہی تم

جذبوں کے اک حصار میں سمٹا ہوا تھا میں

کچھ یہ بھی تھا کہ تم نے مجھے آسماں کیا

کچھ یوں بھی تھا کہ خود میں کہیں کھو گیا تھا میں

تم نے ہی نقش نقش کیا ہر لکیر کو

ورنہ خود اپنے روپ کہاں جانتا تھا میں

اک تم ہی جانتے تھے مری ساری عادتیں

بے ساختہ مزاج تھا کب سوچتا تھا میں

میں تم کو دیکھتا تھا کسی اور روپ میں

وحشت زدہ تھے خواب مگر دیکھتا تھا میں

پھر تم بھی ہو گئے مرے ماضی کا ایک باب

پھر قصر اعتبار میں تنہا کھڑا تھا میں

حامد اقبال صدیقی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(455) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Hamid Iqbal Siddiqui, Tum Thay Khuda Tha Or Mujasam Dua Tha Main in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 11 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Hamid Iqbal Siddiqui.