Teesri Aankh

تیسری آنکھ

تو پھر یوں ہوا

ہم شکستہ دلوں نے سپر ڈال دی

جتنے ناوک بدست اپنے احباب

کوہ وفا پر کھڑے تھے

ہمیں ان سبھی کی جگر داریوں

بے غرض جرأتوں پر مکمل یقیں تھا

مگر جاں نثاری کے اس معرکے میں

صف ہم رہاں کو پلٹ کر جو دیکھا

تو کوئی نہیں تھا

سبھی نرغۂ دشمناں میں کھڑے تھے

ہجوم کشیدہ سراں

پا بہ زنجیر زیر نگیں تھا

سو پھر یوں ہوا

مقتلوں کی طرف جب روانہ ہوئے ہم

تو ساری جبینوں پہ ننگی خجالت

برہنہ ندامت کے قطرے جڑے تھے

ہم اندھے سرابوں کے لا منتہا سلسلوں میں کھڑے تھے

حذر ساعتوں

تھرتھراتے لبوں پر

فقط خامشی تھی

ستم تازیانوں کے قاتل پھریرے

فصیل زبان و دہن پر گڑے تھے

وہ موسم کڑے تھے

تو پھر یوں ہوا

ہم دریدہ بدن

دشنۂ قاتلاں کا ہدف بن گئے

قطرہ قطرہ ہمارا چمکتا گئے

شہر مہرباں کے در و بام پر

جگمگانے لگے

تیسری آنکھ کا نامہ بر ہم کو مژدہ سنانے لگا

حسن عباس رضا

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1334) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Hassan Abbas Raza, Teesri Aankh in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 29 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Hassan Abbas Raza.