Shajar Awaz Deta Hai

شجر آواز دیتا ہے

شجر آواز دیتا ہے

شجر بوڑھا نہیں ہے

ہاں مگر!

اس کی بزرگی سے بھری چھاؤں

کسی بوڑھے کے جیسی ہے

جو صدیوں سے مسافر در مسافر

فیض دیتی آ رہی ہے

تشنگی و آبلہ پائی کے ماروں کو

تھکے ہارے بیچاروں کو

مسافر جب کبھی چھاؤں میں اس کی آ کے بیٹھیں تو یہ اپنی دانش و حکمت کی باتوں سے

کبھی نظموں سے, غزلوں سے

ضیافت ان کی کرتا ہے

سلیمانہ تفکر سے ہر اک دامن کو بھرتا ہے

مگر شکوہ نہیں کرتا

شجر بوڑھا نہیں ہے

ہاں مگر!

اپنی زمانہ ساز نظروں سے

ہر اک منظر کو دیکھے جا رہا ہے

کچھ نہیں کہتا

اچانک مسکراتا ہے

مگر ہنستا نہیں اس پر

ہنسی اور مسکراہٹ کے معنی جانتا ہے وہ

شجر بوڑھا نہیں ہے

ہاں مگر!

وہ کائناتوں کے سبھی بھیدوں سے واقف ہے

ہاں بالکل اِس طرح جیسے

وہ صدیوں سے زمین و آسماں کی نبض تھامے ہو

وہ کہتا ہے کہ اس کی چھاؤں میں بیٹھو

زماں کی قید سے لے کر مکاں کی انتہائوں تک

جو اس کے پاس ہے وہ سب سمیٹو اور لے جاؤ

شجر آواز دیتا ہے

ہزاروں راز دیتا ہے

چلو ہم اس کی چھاؤں میں کسی دن چل کے رہتے ہیں

اسی حیرت میں جیتے ہیں

ہدایت سائر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(397) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Hidayat Sayer, Shajar Awaz Deta Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Friendship, Bewafa, Heart Broken Urdu Poetry. Also there are 20 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Friendship, Bewafa, Heart Broken poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Hidayat Sayer.