Hamain Tum Pay Gumaan Wehshat Tha Hum Logon Ko Ruswa Kya Tum Ne

ہمیں تم پہ گمان وحشت تھا ہم لوگوں کو رسوا کیا تم نے

ہمیں تم پہ گمان وحشت تھا ہم لوگوں کو رسوا کیا تم نے

ابھی فصل گلوں کی نہیں گزری کیوں دامن چاک سیا تم نے

اس شہر کے لوگ بڑے ہی سخی بڑا مان کریں درویشوں کا

پر تم سے تو اتنے برہم ہیں کیا آن کے مانگ لیا تم نے

کن راہوں سے ہو کر آئی ہو کس گل کا سندیسہ لائی ہو

ہم باغ میں خوش خوش بیٹھے تھے کیا کر دیا آ کے صبا تم نے

وہ جو قیس غریب تھے ان کا جنوں سبھی کہتے ہیں ہم سے رہا ہے فزوں

ہمیں دیکھ کے ہنس تو دیا تم نے کبھی دیکھے ہیں اہل وفا تم نے

غم عشق میں کاری دوا نہ دعا یہ ہے روگ کٹھن یہ ہے درد برا

ہم کرتے جو اپنے سے ہو سکتا کبھی ہم سے بھی کچھ نہ کہا تم نے

اب رہرو ماندہ سے کچھ نہ کہو ہاں شاد رہو آباد رہو

بڑی دیر سے یاد کیا تم نے بڑی درد سے دی ہے صدا تم نے

اک بات کہیں گے انشاؔ جی تمہیں ریختہ کہتے عمر ہوئی

تم ایک جہاں کا علم پڑھے کوئی میرؔ سا شعر کہا تم نے

ابن انشا

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(321) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ibne Insha, Hamain Tum Pay Gumaan Wehshat Tha Hum Logon Ko Ruswa Kya Tum Ne in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 37 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ibne Insha.