Dam Merg Balen Par Aya To Hota

دم مرگ بالیں پر آیا تو ہوتا

دم مرگ بالیں پر آیا تو ہوتا

مرے منہ میں پانی چوایا تو ہوتا

یہ سچ ہے وفادار کوئی نہیں ہے

کسی دن مجھے آزمایا تو ہوتا

تسلی نہ دیتا تشفی نہ کرتا

مرے رونے پر مسکرایا تو ہوتا

مجھے اپنی فرقت سے مارا تو مارا

دم نزع مکھڑا دکھایا تو ہوتا

غلط ہے کہ مردہ نہیں زندہ ہوتا

تو میرے جنازے پر آیا تو ہوتا

وہیں چونک اٹھتا میں خواب لحد سے

مرا شانہ تو نے ہلایا تو ہوتا

ہوا عید کے دن میں قربان تجھ پر

بلا کر گلے سے لگایا تو ہوتا

مرے قتل پر تم نے بیڑا اٹھایا

مرے ہاتھ کا پان کھایا تو ہوتا

وہ سنتا نہ سنتا ہوس تو نہ رہتی

مرا حال ہمدم سنایا تو ہوتا

مسی پر بھی داغوں کا ثمرہ نہ پایا

چراغ اک لحد پر جلایا تو ہوتا

گلا ہے مجھے تم سے مرغان گلشن

کبھی درد میرا بٹایا تو ہوتا

کبھی میرے جانب سے پرواز کرتے

کوئی حال پرسی کو آیا تو ہوتا

نہیں یہ بھی شکوہ نہ آئے نہ آئے

گلوں کو مرا غم سنایا تو ہوتا

در و بام کا بحرؔ خواہاں نہیں میں

مرے آشیانے میں سایا تو ہوتا

امداد علی بحر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(637) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Imdad Ali Bahr, Dam Merg Balen Par Aya To Hota in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 93 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Imdad Ali Bahr.