Mar Gaye Par Bhi Nah Ho Boojh Kisi Par Apna

مر گئے پر بھی نہ ہو بوجھ کسی پر اپنا

مر گئے پر بھی نہ ہو بوجھ کسی پر اپنا

روح کے ساتھ ہوا ہو تن لاغر اپنا

بے طرح دل میں بھرا رہتا ہے زلفوں کا دھواں

دم نکل جائے کسی روز نہ گھٹ کر اپنا

یار سوتا نہیں منہ کر کے ہماری جانب

کبھی کروٹ نہیں لیتا ہے مقدر اپنا

تم جو دو پھول چڑھاؤ تو خوشی کے مارے

قبر کھل جائے یہ پھولے تن لاغر اپنا

انتظام آپ کی سرکار میں یوں لازم ہے

بند و بست آپ کا گھر میں رہے باہر اپنا

حور بھی تم ہو نگاہوں میں پری بھی تم ہو

اب تو اے جان دل آیا ہے تمہیں پر اپنا

نور برساتی ہے زلفوں کی گھٹا چہرے پر

پاؤں اس کوچے میں پھسلے گا مقرر اپنا

نیند فرقت میں کہاں موت سے آنے والی

گھر سے بہتر ہے جو تکیے میں ہو بستر اپنا

خانہ برباد کیا عشق نے طفلی سے ہمیں

کہ مٹا بیٹھی گھروندے کی طرح گھر اپنا

اب نہ کچھ بولتے بنتی ہے نہ چپ رہتے ہمیں

نہ دل اپنا نظر آتا ہے نہ دلبر اپنا

وعدۂ وصل اگر آج بھی پورا نہ ہوا

یہ سمجھ لیجئے وعدہ ہے برابر اپنا

خوبرو کچھ بھی اگر بندہ نوازی فرمائیں

مالداروں کو کریں بندۂ بے زر اپنا

بے گلا کاٹے ہوئے رات نہیں کٹنے کی

صدقہ ابرو کا دیے جائیے خنجر اپنا

ڈور ہیں سلک گہر پر کہیں اشعار اے بحرؔ

قدرداں ہو تو سنائیں اسے جوہر اپنا محبوب خدا نے تجھے نایاب بنایا

امداد علی بحر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(260) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Imdad Ali Bahr, Mar Gaye Par Bhi Nah Ho Boojh Kisi Par Apna in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 93 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Imdad Ali Bahr.