Apne Markaz Say Agar Daur Nikal Jao Gay

اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے

اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے

خواب ہو جاؤ گے افسانوں میں ڈھل جاؤ گے

اب تو چہروں کے خد و خال بھی پہلے سے نہیں

کس کو معلوم تھا تم اتنے بدل جاؤ گے

اپنے پرچم کا کہیں رنگ بھلا مت دینا

سرخ شعلوں سے جو کھیلو گے تو جل جاؤ گے

دے رہے ہیں تمہیں تو لوگ رفاقت کا فریب

ان کی تاریخ پڑھو گے تو دہل جاؤ گے

اپنی مٹی ہی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو

سنگ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے

خواب گاہوں سے نکلتے ہوئے ڈرتے کیوں ہو

دھوپ اتنی تو نہیں ہے کہ پگھل جاؤ گے

تیز قدموں سے چلو اور تصادم سے بچو

بھیڑ میں سست چلو گے تو کچل جاؤ گے

ہم سفر ڈھونڈو نہ رہبر کا سہارا چاہو

ٹھوکریں کھاؤ گے تو خود ہی سنبھل جاؤ گے

تم ہو اک زندۂ جاوید روایت کے چراغ

تم کوئی شام کا سورج ہو کہ ڈھل جاؤ گے

صبح صادق مجھے مطلوب ہے کس سے مانگوں

تم تو بھولے ہو چراغوں سے بہل جاؤ گے

اقبال عظیم

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(2909) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Iqbal Azeem, Apne Markaz Say Agar Daur Nikal Jao Gay in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 29 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.6 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Iqbal Azeem.