Mare Honay Main Kisi Tor Say Shamil Ho Jao

میرے ہونے میں کسی طور سے شامل ہو جاؤ

میرے ہونے میں کسی طور سے شامل ہو جاؤ

تم مسیحا نہیں ہوتے ہو تو قاتل ہو جاؤ

دشت سے دور بھی کیا رنگ دکھاتا ہے جنوں

دیکھنا ہے تو کسی شہر میں داخل ہو جاؤ

جس پہ ہوتا ہی نہیں خون دو عالم ثابت

بڑھ کے اک دن اسی گردن میں حمائل ہو جاؤ

وہ ستم گر تمہیں تسخیر کیا چاہتا ہے

خاک بن جاؤ اور اس شخص کو حاصل ہو جاؤ

عشق کیا کار ہوس بھی کوئی آسان نہیں

خیر سے پہلے اسی کام کے قابل ہو جاؤ

ابھی پیکر ہی جلا ہے تو یہ عالم ہے میاں

آگ یہ روح میں لگ جائے تو کامل ہو جاؤ

میں ہوں یا موج فنا اور یہاں کوئی نہیں

تم اگر ہو تو ذرا راہ میں حائل ہو جاؤ

عرفان صدیقی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(583) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Irfan Siddiqui, Mare Honay Main Kisi Tor Say Shamil Ho Jao in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 69 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Irfan Siddiqui.