Hum Se Bhaga Nah Karo Daur Ghazaalon Ki Terhan

ہم سے بھاگا نہ کرو دور غزالوں کی طرح

ہم سے بھاگا نہ کرو دور غزالوں کی طرح

ہم نے چاہا ہے تمہیں چاہنے والوں کی طرح

خودبخود نیند سی آنکھوں میں گھلی جاتی ہے

مہکی مہکی ہے شب غم ترے بالوں کی طرح

تیرے بن رات کے ہاتھوں پہ یہ تاروں کے ایاغ

خوبصورت ہیں مگر زہر کے پیالوں کی طرح

اور کیا اس سے زیادہ کوئی نرمی برتوں

دل کے زخموں کو چھوا ہے ترے گالوں کی طرح

گنگناتے ہوئے اور آ کبھی ان سینوں میں

تیری خاطر جو مہکتے ہیں شوالوں کی طرح

تیری زلفیں تری آنکھیں ترے ابرو ترے لب

اب بھی مشہور ہیں دنیا میں مثالوں کی طرح

ہم سے مایوس نہ ہو اے شب دوراں کہ ابھی

دل میں کچھ درد چمکتے ہیں اجالوں کی طرح

مجھ سے نظریں تو ملاؤ کہ ہزاروں چہرے

میری آنکھوں میں سلگتے ہیں سوالوں کی طرح

اور تو مجھ کو ملا کیا مری محنت کا صلہ

چند سکے ہیں مرے ہاتھ میں چھالوں کی طرح

جستجو نے کسی منزل پہ ٹھہرنے نہ دیا

ہم بھٹکتے رہے آوارہ خیالوں کی طرح

زندگی جس کو ترا پیار ملا وہ جانے

ہم تو ناکام رہے چاہنے والوں کی طرح

جاں نثاراختر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(247) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Jaan Nisar Akhtar, Hum Se Bhaga Nah Karo Daur Ghazaalon Ki Terhan in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 71 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Jaan Nisar Akhtar.